حلیہ مبارک سرور کائنات حضرت محمد ﷺ

حلیہ مبارک سرور کائنات حضرت محمد ﷺ

ہجرت کے وقت رسول اللہ ﷺ ، ام معبدؓخُزاعیہ کے خیمے سے گزرے تو اس نے آپ ؐکی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپؐ کے حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا ، تابناک چہرہ ، خوبصورت ساخت، نہ تو ندلے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی ، جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہواپیکر،سرمگیں آنکھیں ، لمبی پلکین، باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو، چمکدار کالے بال، خاموش ہوں تو باوقار ، گفتگو کریں تو پُر کشش، دور سے دیکھنے میں تابناک و پرجمال ، قریب سے سب سے خوبصورت و شیریں ،گفتگو میں چاشنی، بات واضح اور دوٹوک، نہ مختصر نہ فضول، انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جڑ رہے ہیں ۔درمیانہ قد،نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے ، نہ لمبا کہ ناگوار لگے۔ دو شاخوں کے درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں جو سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر ہے ۔رفقا  آپ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں ، کوئی حکم دیں تو لپک کر بجا لاتے ہیں ۔ مطاع و کرم ، نہ تُرش رُو ، نہ لغو گو

حضرت عباسؓ فرماتے ہیں کہ آپؐ کے  دونوں دانت الگ الگ تھے جب آپؐ گفتگو فرماتے تو ان دانتوں کے درمیان سے نورجیسا نکلتا دیکھائی دیتا ۔

گردن گویا چاندی کی صفائی لیے ہوئے گڑیا کی گردن تھی ۔ پلکیں طویل،داڑھی گھنی،پیشانی کشادہ،ابرو پیوستہ اور ایک دوسرے سے الگ، ناک اونچی ، رخسار ہلکے، لبہ سے ناف تک چھڑی کی طرح دوڑا ہوا بال، اور اس کے سوا شکم اور سینے پر کہیں بال نہیں ۔البتہ بازو اور مونڈھوں پر بال تھے ۔شکم اور سینہ برابر ،سینہ مسطح اور کشادہ، کلائیاں بڑی بڑی، ہتھیلیاں کشادہ، قد کھڑا، تلوے خالی ،اعضا بڑے بڑے، جب چلتے تو جھٹکے کے ساتھ چلتے ، قدرے جھکاؤ کے ساتھ آگے بڑھتے اور سہل رفتا سے چلتے

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حریر و دیبا نہیں چھواجو رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو ۔ اور نہ کبھی کوئی عنبر یا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہﷺ کی خوشبو سے بہتر ہو۔

حضرت ابو جحیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے چہر پر رکھا تو وہ برف سےزیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھا۔

حلیہ مبارک سرور کائنات حضرت محمد ﷺ

حضرت علی ؓ آپؐ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’آپؐ نہ لمبے تڑنگے تھے نہ ناٹے کھوٹے، لوگوں کے حساب سے درمیانے قد کے تھے ۔بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل کھڑے کھڑےبلکہ دونوں کے بیچ بیچ کی کیفیت تھی۔رخسانہ نہ بہت زیادہ پرگوشت تھا،نہ ٹھوڑی چھوٹی اور پیشانی پست، چہرہ کسی قدر گولائی لیے ہوئے تھا ۔ رنگ گورا گلابی، آنکھیں سرخی مائل، پلکیں لمبی، جوڑوں اور مونڈھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی ، سینہ پر ناف تک بالوں کی ہلکی سی لکیر ، بقیہ جسم بال سے خالی، ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں پرگوشت ، چلتے تو قدرے جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور یوں چلتے گویا کسی ڈھلوان پر چل رہے ہیں ۔جب کسی طرف متوجہ ہوتے تو پورے وجود کے سات متوجہ ہوتے۔دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔آپؐ سارے انبیا ٔ کے خاتم تھے۔سب سے زیادہ سخی دست اور سب سے بڑھ کر جرأت مند سب سے زیادہ صادق اور سب سے بڑھ کر عہدوپیمان کے پابندوفا۔ سب سے زیادہ نرم طبعیت اور سب سے شریف ساتھی۔جو آپؐ کو اچانک دیکھتا ہیبت زدہ ہو جاتا۔جو جان پہچان کے ساتھ ملتامحبوب رکھتا۔آپ ؐکا وصف بیان کرنے والا یہی کہہ سکتاہے کہ میں نے آپ ؐسے پہلے اور آپؐ کے بعد آپؐ جیسا نہیں دیکھا۔

حضرت جابر بن سمرہؓ کا بیان ہے کہہ آپ ؐ کا دہانہ کشادہ تھا ، آنکھیں ہلکی سرخی لیےہوئے اور ایڑیاں باریک

حضرت انسؓ بن مالک کا ارشاد ہے کہ آپؐ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں ، اور رنگ چمکدار،نہ خالص سفید،نہ گندم گوں ، وفات کے وقت تک سر اور چہرےکے بیس بال بھی سفید نہ ہوئے تھے۔

حضرت ابو حُجیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپؐ کے ہونٹ کے نیچے عنفقہ (داڑھی بچہ) میں سفیدی دیکھی۔

حضرت برأؓ کا بیان ہے کہ آپؐ کا  پیکر درمیانی تھا ۔ دونوں کندھوں کے درمیان دوری تھی۔بال دونوں کانوں کی لوتک پہنچتے تھے ۔میں نےآپؐ کوسُرخ جوڑا زیب تن کیے ہوئے دیکھا ۔کبھی کوئی چیز آپ ؐسے زیادہ خوبصورت نہ دیکھی۔

حضرت برأ ؓ کہتے ہیں :آپؐکا چہر ہ سب سے خوبصورت تھااور حضورﷺ کے اخلاق سب سے بہتر تھے ۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی ﷺ کا چہرہ تلوار جیسا تھا ،انہوں نے کہا نہیں بلکہ چاند جیسا تھا ۔

حلیہ مبارک سرور کائنات حضرت محمد ﷺ

حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے کہ جب آپؐ خوش ہوتے تو چہرہ دھمک اٹھتا ،گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔

ایک بار آپؐ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف فرما تھے پسینہ آیا تو چہرے کی ساری دھاریاں چمک اٹھیں ۔

جب آپؐ غضبناک ہوتے تو چہرہ سرخ ہوجاتا گویا دونوں رخساروں میں دانہ انارنچوڑ دیا گیا ہے ۔

حضرت جابر بن سمرہ کا بیان ہے کہ آپ ؐکی پنڈلیاں قدرے پتلی تھیں اور آپؐ ہنستے تو صرف تبسم فرماتے آنکھیں سرمگیں تھیں ہم دیکھتے تو کہتے کہ آپ ؐ نے  آنکھوں میں سُرمہ لگا رکھا ہے ۔حالانکہ سُرمہ نہ لگاہوتا۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آپؐ کا پسینہ گویا موتی ہوتا تھا ۔اور حضرت اُم سلیم کہتی ہیں کہ یہ پسینہ ہی سب سے عمدہ خوشبو ہوا کرتی تھی۔

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں : آپؐ کسی راستہ سے تشریف لے جاتے اور آپؐ کے بعد کوئی اور گزرتا تو آپؐ کے جسم یا پسینہ کی خوشبو کی وجہ سے جان جاتا کہ آپؐ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں ۔

آپؐ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی جو کبوتر کے انڈے جیسی اور جسم مبارک ہی کے مشابہ تھی۔یہ بایئں کندھے کی کری (نرم ہڈی) کے پاس تھی۔اس پر مسوں کی طرح تِلوں کا جمگھٹ تھا۔

اقباس ۔۔۔۔۔ الرحیق المختوم(سیرت النبی پر دنیا بھر میں اول انعام یافتہ کتاب)

طالب دعا۔۔۔۔۔۔۔ رانا شہزاد اکرم

اپنی رائے کا اظہار ضروری کیجیے گا ۔ 

You may also like...

2 Responses

Leave a Reply

%d bloggers like this: